Showing posts with label متفرقات. Show all posts
Showing posts with label متفرقات. Show all posts

Monday, October 17, 2011

ایک عالمِ دین کی بذلہ سنجی

شیخ عبداللہ المطلق سعودی عرب کے بڑے علماء کی کمیٹی کے رکن ہیں۔ اُنکا شمار فی البدیہ اور فوراً فتویٰ دینے کے حوالے سے مشہور ترین علماء میں ہوتا ہے۔ اپنی بذلہ سنجی، ظریف اور پُر مزاح طبیعت کی وجہ سے عوام میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ براہ راست پروگراموں میں اُن سے پوچھے گئے سوالات کے جواب سننے کے لائق ہوتے ہیں۔


آپکی تفریح طبع کیلئے اُنکے کُچھ دلچسپ جوابات اور فتاویٰ جات پیش ِخدمت ہیں۔

ایک سائل نے شیخ صاحب سے سوال کیا؛ شیخ صاحب کیا پینگوئن کا گوشت کھانا حلال ہے؟
شیخ صاحب نے اُسے جواب دیا؛ اگر تجھے پینگوئن کا گوشت مل جاتا ہے تو کھا لینا۔

ایک مرتبہ ایک لڑکی نے ٹیلیفون کر کے پوچھا؛ شیخ صاحب، میری امی بہت عمر رسیدہ ہے اور چل پھر بھی نہیں سکتی۔ اشد ضرورت اور حوائج کیلئے فقط رینگ کر چلتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اسلام میں میری امی کا مقام کن لوگوں میں شمار ہوتا ہے؟ 
شیخ صاحب نے جواب دیا؛ تیری امی کا مقام رینگ کر چلنے والی مخلوقات میں شمار ہوتا ہے۔

Friday, September 23, 2011

ڈراپ سین

میری نظر اس پر اچانک پڑ گئی تھی، ورنہ رنگ و بو کے اس سیلاب میں جہاں لوگ اپنی ہی ہستی میں گم تھے، کسی کو اپنے آپ کا ہوش نہیں تھا- کوئی کسی پر توجہ دینے کیلئے اپنی بے خودی کے شکنجے سے باہر کس طرح آ سکتا تھا، مگر جب میں نے اسے دیکھا تو نظر انداز نہ کر سکا- اس نے اپنے وجود کو اس طرح چھپا رکھا تھا' جیسے کوئی دیکھے گا تو چرا لے گا، جیسے وہ کوئی انمول ہیرا یا قیمتی خزانہ ہو

Tuesday, July 26, 2011

مال تمہاری ملکیت مگر وسائل معاشرے کی امانت


جرمنی  ایک صنعتی ملک ہے جہاں دُنیا کی بہترین مصنوعات اور بڑے بڑے برانڈز مثلاً مرسیڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور سیمنز پروڈکٹس بنتے ہیں۔ ایٹمی ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے پمپ تو محض اس ملک کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں بنتے ہیں۔ اس طرح کے ترقی یافتہ ملک کے بارے  میں کوئی بھی سوچ سکتا ہے کہ وہاں  لوگ کس طرح عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہونگے، کم از کم میرا خیال تو اُس وقت یہی تھا جب میں پہلی بار اپنی تعلیم کے سلسلے میں سعودیہ سے جرمنی جا رہا تھا۔


میں جس وقت ہمبرگ پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود  میرے دوست میرے استقبال کیلئے ایک ریسٹورنٹ میں دعوت کا پروگرام بنا چکے تھے۔ جس وقت ہم ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے  اس وقت وہاں گاہک نا ہونے کے برابر اور اکثر میزیں خالی نظر آ رہی تھیں۔  ہمیں جو میز دی گئی اس کے اطراف میں ایک میز پر  نوجوان میاں بیوی کھانا کھانے میں مشغول تھے ،  اُن کے سامنے صرف ایک ڈش میں کھانا رکھا ہوا تھا جس کو وہ اپنی اپنی پلیٹ میں ڈال کر کھا رہے اور شاید دونوں کے سامنے ایک ایک گلاس جوس بھی رکھا ہوا نظر آ رہا تھا جس سے میں نے یہی اندازہ لگایا کہ بیچاروں کا رومانوی ماحول میں بیٹھ کر کھانا کھانے کوتو  دل چاہ رہا  ہوگا مگر جیب زیادہ اجازت نا دیتی ہو گی۔ ریسٹورنٹ میں ان کے علاوہ کچھ عمر رسیدہ خواتین نظر آ رہی تھیں۔ 

Sunday, July 24, 2011

یہ وقت بھی گزر جائے گا

کسی بادشاہ نے اپنے ملک سے تمام پڑھے لکھے، عقلمند اور عالم قسم کے لوگوں‌کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا مشورہ، منتر یا مقولہ ہے کہ جو ہر قسم کے حالات میں کام کرے، ہر صورتحال اور ہر وقت میں اس ایک سے کام چل جائے۔ کوئی ایسا مشورہ جو کہ میں اگر اکیلے میں ہوں‌اور میرے ساتھ کوئی مشورہ کرنے والا نہ ہو تب بھی مجھے اس کا فائدہ ہو؟

Monday, June 27, 2011

سیب حرام ہے


یہ ایک شخص کی آب بیتی ہے جو کہتا ہے کہ:
میں مسجد میں تحیۃ المسجد ادا کر رہا تھا کہ سگریٹ کی ناگوار بدبو نے مجھے بے چین کر کے رکھ دیا، خشوع و خضوع قائم رکھنا تو بعد کی بات تھی بدبو کی شدت سے نماز پوری کرنا بھی محال لگ رہا تھا۔ سلام پھیر کر دیکھا تو قریب ہی ایک آدمی نماز ادا کر رہا تھا۔ سگریٹ نوشی کی کثرت سے اس کے ہونٹ سیاہ پڑ چکے تھے۔ میں نے سوچا یہ نماز سے فارغ ہو چکے تو اس سے بات کرونگا، شاید میری نصیحت سے اس پر کوئی مثبت اثر پڑ جائے۔ لیکن مجھے اس وقت حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب اس شخص کے ساتھ بیٹھے ایک نوجوان نے اسکی نماز سے فراغت پر مجھ سے پہلے ہی اس سے گفتگو کرنا شروع کی، سننے کیلئے میں نے بھی کان لگائے تو کچھ اس قسم کی بات چیت ہو رہی تھی:
نوجوان: السلام و علیکم، چچا آپ کون ہیں؟

Thursday, May 26, 2011

تازہ مچھلی کھانے کا سواد (Taste of fresh fish)

جاپان کا رقبہ پاکستان کے رقبے کا صرف ۴۷ فیصد بنتا ہے۔ یہاں کی آبادی ساڑھے بارہ کروڑ ہے۔ انسانوں کی کثافت کا اس بات سے اندازہ لگا لیجیئے کہ یہاں فی مربع کیلومیٹر اوسطا ۳۳۷ لوگ بستے ہیں، جبکہ پاکستان میں فی مربع کیلومیٹر صرف ۲۲۱ لوگ بستے ہیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ اس ملک کا تین چوتھائی رقبہ پہاڑی جنگلات سے گھرا ہوا ہے جو کسی قسم کی زراعت کے قابل ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان کی اکثر آبادی ساحلی علاقوں پر آباد ہے اور مچھلی عوام الناس کی بنیادی غذا شمار کی جاتی ہے۔

جاپانیوں کی مچھلی سے رغبت اور محبت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیئے کہ ملک میں چالیس سے زیادہ میگیزین (بیشتر جاپانی زبان میں) صرف مچھلی اور مچھلی سے متعلقہ اسرار و علوم کی تحقیق پر شائع ہوتے ہیں۔ جاپان میں کوئی سکول یا یونیورسٹی ایسی نہیں ہے جس میں مچھلی سے متعلق علوم نہ پڑھائے جاتے ہوں بلکہ یہاں تو مچھلی کے علم پر ایک خاص یونیورسٹی بھی موجود ہے اور دیگر ایسے ادارے جو مچھلی کے علوم میں ریسرچ کرتے ہیں وہ ان سب کے علاوہ ہیں۔ اس لئیے آپ کو یہ بات عجیب نہیں لگے گی کہ دنیا بھر میں پکڑی جانے والے مچھلی کا پندرہ فیصد صرف جاپان پکڑتا ہے جبکہ دنیا میں سب سے مچھلی شکار کرنے والے ملک چین کے بعد جاپان کا دوسرا نمبر ہے۔

اس ساری تمہید کے بعد میں آپ کو جاپانیوں کی تازہ مچھلی کھانے کے شوق اور محبت کا یہ قصہ سناتا ہوں جو میں نے سنگاپور آرمی کی ایک ویب سائٹ پر پڑھا تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ جاپان کے ساحلوں پر یا ساحلوں سے نزدیک مچھلی کا ملنا مشکل ہوتا گیا تو مچھیروں نے ساحلوں سے دور سمندر کے اندر جا کر مچھلی کا شکار کرنا شروع کردیا۔ جس کی وجہ سے سمندر کے اندر جا کر مچھلی شکار کرنے والی کشتیوں کے حجم بھی بڑے ہوتے گئے۔ اسکا جہاں فائدہ ہوا وہیں شکاری کشتیوں اور جہازوں کے ساحل پر واپس لوٹنے کا عرصہ لمبا ہوتا گیا۔ اور نتیجہ کے طور جب مچھلی ساحل پر لائی جاتی تھی تو وہ تازہ نہیں ہوا کرتی تھی۔

اِس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ شکاری جہازوں پر بڑے بڑے فریزر اور سرد خانے بنا دیئے گئے جس میں شکار کرنے کے فورا بعد ہی مچھلی سٹور کر لی جاتی تھی۔ اس حل کا منفی پہلو یہ نکلا کہ مچھلی کی خرابی کے اندیشوں سے بے فکر شکاری جہازوں کا سمندر میں رہنے کا عرصہ اور دراز ہو گیا، شکاری بے فکری سے سمندر کے اندر دور تک جانے لگے اور اطمئنان سے واپس آنے لگے ۔

لیکن مچھلی کو تازہ واپس لانے کا خواب تو شرمندہِ تعبیر پھر بھی نہ ہو سکا۔ فریزر کی جمی ہوئی مچھلی کو لوگ مچھلی تو شمار کرتے مگر تازہ مچھلی ہرگز نہیں۔ بلکہ اس سے تو نئی مشکل آن کھڑی ہوئی اور وہ یہ کہ خریدار مچھلی کے وہ دام نہ دیتے جو کہ حق بنتا تھا۔ مچھلی کی مناسب قیمت نہ ملنے اور خریداروں کی عدم رغبتی کی وجہ سے مچھیرے گھاٹے میں جانے لگے۔

اس مسئلے کا کیا حل نکالا جائے، اور جاپانیوں کے پاس تو ہمیشہ اپنے مسائل کا کوئی نہ کوئی حل موجود ہوتا ہے۔

مچھیروں نے اپنے جہازوں پر پانی سے بھرے ہوئے بڑے بڑے حوض اور ٹینک رکھنا شروع کر دیئے۔ ادھر سمندر سے شکار کرتے اور اُدھر حوضوں میں ڈال لیتے، اس طرح مچھلی ساحل تک زندہ لائی جانے لگی، خریدار نہ صرف تازہ بلکہ زندہ مچھلی خریدنے لگے۔

بظاہر تو آئیڈیا لاجواب اور دانشمندانہ تھا مگر یہ دیکھیئے کہ اس کے بعد کیا ہوا؟

خریداروں نے محسوس کیا کہ جو مچھلی وہ خرید رہے ہیں وہ زندہ تو ضرور ہے مگر نہایت ہی سست، کاہل اور مردنی سی۔ کیوں کہ جہاز پر رکھے حوضوں میں ڈال کر لائی گئی مچھلی کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ حوض میں بہتات سے ڈالی ہوئی مچھلیاں وہ حرکت نہیں کر سکتی تھیں جو کھلے سمندر میں طبیعی طور پر کرتی تھیں، مزید اُن کو حوض میں ڈالی گئی خوراک یا تو ناکافی ہوا کرتی تھی یا اُس خوراک سے قطعی مختلف جو مچھلیاں سمندر میں آزادی سے حاصل کر کے کھاتی تھیں۔

جاپانیوں کی تازہ مچھلی خوری کی عادت کیلئے اس قسم کی مچھلی گویا رمضان کے روزے رجب میں رکھوانے والی بات ثابت ہو رہی تھی۔ کس طرح مچھیرے اپنے ہموطن خوش خوراکوں کو راضی کر پاتے، اس ذہین قوم کے پاس ہر مشکل کا حل نکالنے کی صلاحیت ہے اور اس مسئلے کا حل بھی انہوں نے نکال ہی لیا۔

جی ہاں، اُنہوں نے مچھلی کے حوضوں میں ایک چھوٹی سی شارک مچھلی رکھنا شروع کردی۔

تاکہ اس شارک مچھلی کے ہاتھوں پکڑے جانے کے خوف سے کوئی مچھلی ایک جگہ پر ٹکنے یا رکنے نہ پائے اور مسلسل حرکت میں ہی رہے۔

کیا اس حرکت سے کوئی مچھلی سستی یا کاہلی کا شکار ہو سکتی تھی؟ شاید نہیں۔

اور کُچھ ایسی ہی مثال حضرت انسان کی ہے جب وہ کسی قسم کے چیلنجز کا سامنا کیئے بغیر سست، کاہل اور مردنی سی زندگی گزار رہا ہوتا ہے ۔

کیا صرف چیلنجز ہی ہماری زندگیوں کو متحرک اور سرگرم رکھ سکتے ہیں؟

یاد رکھیئے کامیابیاں کبھی ایسے تن آسانوں کو نہیں ملا کرتیں جو کسی قسم کے چیلنجز کا سامنا کرنے سے کتراتے اور گھبراتے ہوں۔

تو پھر کیوں ناں ہم اپنے وہ ساری مہارتیں اور سارے مواقع و وسائل جو اللہ تبارک و تعالٰی نے ہمیں عطا کیئے ہیں استعمال کرکے کچھ مختلف کام کریں۔ کم از کم اُن لوگوں سے مختلف تو ضرور جو تن ٓآسان، سست اور کاہل لوگ کرتے ہیں۔

کیوں ناں کوئی ہمارے پیچھے بھی ایک شارک مچھلی لگادے جو ہمیں زندگی میں آگے ہی آگے بڑھاتی رہے کامیابیوں اور کامرانیوں کے سفر پر۔۔۔

آج کل پاکستان کے حالات بھی ایسے نہیں کہ جیسے اس سوئی ہوئی قوم کے پیچھے کسی نے شارک لگا دی ہو؟

سلیم

Thursday, February 17, 2011

اکسیر جنونِ نسواں

مندرجہ ذیل قصہ ایک نہایت ہی معتبر شخص نے سنایا، کہتا ہے کہ یہ قصہ اسکے والد کے زمانے میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والے ایک نوجوان کا ہے، میں آپکو اسی نوجوان کی زبانی سناتا ہوں۔


قبائلی رسم و رواج کے مطابق میں دور سے ہی ہاتھ اُٹھا کر اور بلند آواز سے سلام کرتے ہوئے اس پر وقار شخص کی طرف بڑھ رہا تھا، جی ہاں، اپنے قبیلے کے شیخ کی طرف، جو دوپہر ڈھلتے ہی اپنے گھر کی دیوار کے ساتھ بنی منڈھیر پر اونی چٹائی بچھا ئے، چائے اور عربی قہوہ کی کیتلیاں اور تھرماس پاس رکھ کر آئے گئے مہمانوں کا استقبال کرتا تھا۔ یہ شیخ صاحب کا روز کا معمول تھا۔ اُسکی یہ محفل عصر سے پہلے سجتی تھی اور مہمانوں کے آنے جانے کا سلسلہ عشاء کے بعد تک چلتا تھا۔

میں شیخ صاحب سے مصافحہ کرکے ان کے پاس ہی بیٹھ گیا۔ حتی المقدور اپنی آواز کو دھیما رکھتے ہوئے عرض کیا: اے شیخ میں آپ سے مشورہ کرنے کیلئے حاضر ہوا ہوں۔ پچھلے ایک سال سے شادی کے بعد سے اب تک میرا نہایت ہی برا حال ہے۔
شیخ صاحب نے مسکراتے ہوئے مجھے دیکھا اور گویا ہوئے: کیوں برخوردار، ایسی کیا بات ہے؟ الحمد للہ مجھے تو تم اچھے بھلے نظر آ رہے ہو۔

میں نے اپنے سر کو دائیں بائیں انکار میں ہلاتے ہوئے کہا: نہیں شیخ صاحب، میں ٹھیک نہیں ہوں، میری بیوی، میری بیوی ایک پاگل ہے۔