Showing posts with label تفریحی. Show all posts
Showing posts with label تفریحی. Show all posts

Monday, October 17, 2011

ایک عالمِ دین کی بذلہ سنجی

شیخ عبداللہ المطلق سعودی عرب کے بڑے علماء کی کمیٹی کے رکن ہیں۔ اُنکا شمار فی البدیہ اور فوراً فتویٰ دینے کے حوالے سے مشہور ترین علماء میں ہوتا ہے۔ اپنی بذلہ سنجی، ظریف اور پُر مزاح طبیعت کی وجہ سے عوام میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ براہ راست پروگراموں میں اُن سے پوچھے گئے سوالات کے جواب سننے کے لائق ہوتے ہیں۔


آپکی تفریح طبع کیلئے اُنکے کُچھ دلچسپ جوابات اور فتاویٰ جات پیش ِخدمت ہیں۔

ایک سائل نے شیخ صاحب سے سوال کیا؛ شیخ صاحب کیا پینگوئن کا گوشت کھانا حلال ہے؟
شیخ صاحب نے اُسے جواب دیا؛ اگر تجھے پینگوئن کا گوشت مل جاتا ہے تو کھا لینا۔

ایک مرتبہ ایک لڑکی نے ٹیلیفون کر کے پوچھا؛ شیخ صاحب، میری امی بہت عمر رسیدہ ہے اور چل پھر بھی نہیں سکتی۔ اشد ضرورت اور حوائج کیلئے فقط رینگ کر چلتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اسلام میں میری امی کا مقام کن لوگوں میں شمار ہوتا ہے؟ 
شیخ صاحب نے جواب دیا؛ تیری امی کا مقام رینگ کر چلنے والی مخلوقات میں شمار ہوتا ہے۔

Friday, September 30, 2011

کبوتر

کبوتر بڑے کام کا جانور ہے۔ يہ آباديوں ميں جنگلوں ميں، مولوی اسمعيل ميرٹھی کی کتاب ميں، غرض يہ کہ ہر جگہ پايا جاتا ہے ۔کبوتر کی دو بڑی قسميں ہيں۔ نيلے کبوتر۔ سفيد کبوتر، نيلے کبوتر کی بڑی پہچان يہ ہے کہ وہ نيلے رنگ کا ہوتا ہے، سفيد کبوتر بالعموم سفيد ہی ہوتا ہے۔

Sunday, September 18, 2011

پياسا کوا


ايک پياسے کوے کو ايک جگہ پانی کا مٹکا پڑا نظر آيا۔ بہت خوش ہوا ليکن يہ ديکھ کر مايوسی ہوئی کہ پانی بہت نيچے فقط مٹکے کی تہہ ميں تھوڑا سا ہے۔ سوال يہ تھا کہ پانی کو کيسے اوپر لائے اور اپنی چونچ تر کرے۔

Thursday, September 8, 2011

عقلمند بوڑھا

ایک دفعہ ایک بادشاہ مع وزیر کے جنگل کی سیر کو گیا‘ ایک بوڑھے کو دیکھا کہ باغ میں گٹھلیاں بورہا ہے۔ بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ اس سے پوچھو کیا بورہا ہے۔ جب وزیر نے پوچھا تو اس نے کہا کہ کھجور کی گٹھلیاں بورہا ہوں‘ بادشاہ نے پوچھا کہ یہ کتنے برس میں پھل لے آئیں گے۔ بوڑھے نے کہا کہ بیس پچیس سال کے بعد۔ بادشاہ ہنسا کہ بوڑھے میاں کے پیر قبر میں لٹک رہے ہیں اور بیس پچیس سال آئندہ کا سامان کررہے ہیں۔ وزیر نے یہ بات بوڑھے سے کہی تو وہ کہنے لگا کہ اگر سب باغ لگانے والے یہی سوچا کرتے جو تم سوچتے ہو تو آج تم کو ایک کھجور بھی نصیب نہ ہوتی۔ میاں! دنیا کا کام یوں ہی چلتا ہے کہ کوئی لگاتا ہے‘ کوئی کھاتا ہے۔ بادشاہ نے یہ معقول جواب سن کر کہا نَعَم”بے شک صحیح ہے“- بادشاہ کا یہ قاعدہ تھا کہ جس شخص کی بات پر نَعَم کہہ دیا اس کو ایک ہزار دینار دئیے جائیں۔ چنانچہ وزیر نے اس وقت ایک ہزار دینار کا توڑا اس کے حوالے کیا۔ اس کے بعد دونوں آگے چلنے لگے۔ تو بوڑھے نے کہا کہ میری ایک بات سنتے جائو- وزیر نے کہا کہو کیا بات ہے؟

Thursday, September 1, 2011

آدمی


دودھ دینے والے جانوروں میں پالنے لئیے سب سے اچھا یہ ہے۔ یہ نوکری کرتا ہے، دوکان کرتا ہے، تنخواہ لاتا ہے، بچے کھلاتا ہے، انھیں پیٹھ پر بٹھاتا ہے۔ عجیب شکلیں بنا کر ہنساتا ہے، بہلاتا ہے۔ اپنی مادہ کی خدمت میں جتنی دوڑ دھوپ یہ کرتا ہے کوئی اور جانور نہیں کرتا۔ اسی لئے تو اس کے سینگ غائب ہو گئے ہیں، کھر گھس گئے ہیں اور دُم جھڑ گئی ہے۔

Tuesday, August 30, 2011

کتا

کتا پالتوجانور ہے۔ ہمارے شہر کی کارپوریشن اسے پالتی ہے اور مختلف علاقوں میں چھوڑ دیتی ہے۔ کارپوریشن اور بھی کئی جانور پالتی ہے مثلاً مچھر، مثلاً چوہے۔ لیکن بھونکنے والا جانور یہی ہے۔ کتابوں میں آیا ہے کہ جو کتے بھونکتے ہیں وہ کاٹتے نہیں۔ کاٹنے والے کو بھونکنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بھونکتا وہ ہے جسے کاٹا جائے جس کو گزند پہنچے۔

Saturday, August 20, 2011

اُونٹ

اُونٹ ایک جانور ہے، اکبر الہ آبادی نے اسے مسلمان سے تشبیہ دی ہے کیونکہ مسلمان کی طرح اس کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی اور مسلمان کی طرح یہ بھی صحرا کا جانور ہے۔ بہت دن تک بے کھائے پیئے زندہ رہتا ہے۔ جس طرح ہر مسلمان کی پیٹھ پر عظمتِ رفتہ کا کوہان ہوتا ہے اس کی پیٹھ پر بھی ہوتا ہے۔ 

Thursday, August 18, 2011

گدھا


گدھا بڑا مشہور جانور ہے۔ گدھے دو طرح کے ہوتے ہیں،چار پاؤں والے اور دو پاؤں والے۔ سینگ ان میں کسی کے سر پر نہیں ہوتے۔ آج کل چار پاؤں والے گدھوں کی نسل گھٹ رہی ہے دو پاؤں والوں کی بڑھ رہی ہے۔

Tuesday, August 16, 2011

بکری


گرچہ چھوٹی ہے ذات بکری کی، لیکن دودھ یہ بھی دیتی ہے۔ عام طور پرصرف دودھ دیتی ہے لیکن مجبور کریں تو کچھ منگنیاں بھی ڈال دیتی ہے۔
جن بکریوں کو شہرتِ عام اور بقائے دوام میں جگہ ملی ہے، ان میں ایک گاندھی جی کی بکری تھی اور ایک اخفش نامی بزرگ کی، روایت ہے کہ وہ بکری نہیں بکرا تھا، معقول صورت۔

بھیڑ


بھیڑ کی کھال مشہور ہے، بھیڑ کی چال مشہور ہے اور بھیڑ کا مآل بھی مشہور ہے۔ بہت کم بھیڑیں عمرِ طبعی کو پہنچتی ہیں۔

Saturday, August 13, 2011

گائے

رب کا شکر ادا کر بھائی

جس نے ہماری گائے بنائی

یہ شعر مولوی اسماعیل میرٹھی کا ہے۔ شیخ سعدی وغیرہ کا نہیں ۔ یہ بھی خوب جانور ہے دودھ کم دیتی ہے۔ عزت زیادہ کراتی ہے، پرانے خیال کے ہندو اسے ماتا جی کہ کر پکارتے ہیں، ویسے بچھڑوں سے بھی اس کا یہی رشتہ ہوتا ہے۔

Thursday, August 11, 2011

بھینس

بہت مشہور جانور ہے، قدمیں عقل سے تھوڑا بڑا ہوتا ہے. چوپایوں میں یہ واحد جانور ہے کہ موسیقی سے ذوق رکھتا ہے. اسی لئے لوگ اِس کے آگے بین بجاتے ہیں. کسی اور جانور کے آگے نہیں بجاتے.

بيا ن پا لتو جا نورں کا

بھلا ایسا بھی کوئی گھر ہے جس ميں ایک نہ ایک پالتو جانور نہ ہو. گائے نہیں تو بھینس، بھیڑ نہیں تو بکری. کتا نہیں تو بّلی، گھوڑا نہیں تو گدھا. جانور پالنا بڑی اچھی بات ہے. یہ صرف انسان کا خاصہ ہے. آپ نے کبھی نہ دیکھا ہوگا کہ کسی طوطے نے خرگوش پالا ہو، کسی مرغی نے کوئی بّلی پالی ہو، یا کسی گدھے نے کوئی گھوڑا پالا ہو. گدھا بظاہر کیسا بھی نظر آئے ایسا گدھا بھی نہیں ہوتا

Monday, August 1, 2011

(اخفش کی بکریاں (بز اخفش


میں جب بہت چھوٹا تھا تو مجھے اپنا سکول کا کام کرنے میں بہت دشواری پیش آتی تھی. میرے والد صاحب مجھے تھوڑا سا اشارہ دے کر میری مدد کرنے کی کوشش کرتے تھے.میں  چاہتا تھا کہ وہ میرے لیے حساب کا سوال حل کریں مگر وہ ایسا نہیں کرتے تھے.  لہذا میں ان کا اشارہ سمجھنے کی کوشش میں مشغول چپ چاپ بیٹھا اپنی کاپی کو دیکھتا رہتا. پھر وہ مجھ سے پوچھتے کہ کیا مجھے سمجھ آ گئی ہے؟ اور میں آہستگی سے ہاں میں سر کو ہلا دیتا. اور والد صاحب کی گونجدار آواز  کانوں سے ٹکراتی

Wednesday, June 15, 2011

انگور اور شراب


مشہور شامی مصنف عادل ابو شنب نے اپنی کتاب شوام ظرفاء میں عرب مُلک شام میں متعین فرانسیسی کمشنر کی طرف سے دی گئی ایک ضیافت میں پیش آنے والے ایک دلچسپ واقعے کا ذکر کیا ہے۔ اُن دنوں یہ خطہ فرانس کے زیر تسلط تھا اور شام سمیت کئی آس پاس کے مُلکوں کیلئے ایک ہی کمشنر (موریس سارای) تعینات تھا۔ کمشنر نے اس ضیافت میں دمشق کے معززین، شیوخ اور علماء کو مدعو کیا ہوا تھا۔
اس ضیافت میں ایک سفید دستار باندھے دودھ کی طرح سفید ڈاڑھی والے بزرگ بھی آئے ہوئے تھے۔ اتفاق سے اُنکی نشست کمشنر کے بالکل آمنے سامنے تھی۔ کمشنر نے دیکھا کہ یہ بزرگ کھانے میں ہاتھ ڈالے مزے سے ہاتھوں کے ساتھ کھانا کھا رہا ہے جبکہ چھری کانٹے اُس کی میز پر موجود ہیں۔ ایسا منظر دیکھ کر کمشنر کا کراہت اور غُصے سے بُرا حال ہو رہا تھا۔ نظر انداز کرنے کی بہت کوشش کی مگر اپنے آپ پر قابو نا پا سکا۔ اپنے ترجمان کو بُلا کر

Tuesday, June 14, 2011

اٹکی ہوئی سوئی


ایک طالبعلم مضمون نویسی جیسے عام مضموں میں فیل ہوا تو سکول کے مہتمم نے اُستاد کو اپنے دفتر میں بلا کر اس طالبعلم کے اس قدر عام اور آسان مضمون میں فیل ہونے کا سبب دریافت کیا۔
اُستاد نے بتایا کہ جناب یہ لڑکا مضمون نویسی میں اصل موضوع سے توجہ ہٹا کر اپنے ذاتی افکار کی طرف لے کر چلا جاتا ہے، اِس لیئے مجبوراً سے فیل کرنا پڑا۔
مہتمم صاحب نے اُستاد سے کہا ٹھیک ہے کوئی مثال تو دو تاکہ مُجھے پتہ چلے کہ تمہاری بات صحیح ہے؟
اُستاد نے بتایا، میں نے اِسے موسم بہار پر مضمون لکھنے کو دیا تو اِس نے کُچھ اِس طرح لکھا: موسم بہار سال کا خوبصورت ترین موسم ہے۔ کھیت کھلیان سر سبز اور ہرے بھرے ہوجاتے ہیں۔ ان کھیت کھیلانوں کے ہرا بھرا ہونے سے اونٹوں کیلئے چارے کی فراہمی بہت ہی آسان ہوجاتی ہے۔ اونٹ خشکی کا جانور ہے اور بھوک و پیاس کو صبر کے ساتھ برداشت کر لیتا ہے۔ اسکے پیروں کی بناوٹ ریت پر چلنے کیلئے بہت اچھی ہوتی ہے، اسی لئے تو اسے صحراء کا سفینہ بھی کہتے ہیں۔ بدو اونٹوں کو نہایت پیار اور مُحبت سے پالتے ہیں۔ اونٹ نا صرف دودھ اور گوشت کے حصول کیلئے پالا جاتا ہے بلکہ اس سے ہر قسم کی بار برداری اور آمدورفت کیلئے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کیلئے سواری کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ اونٹ ایک پالتو جانور ہے اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس طرح اس طالبعلم نے اصل مضمون اور اسکے عنوان کو بھلا اپنی ساری توانائی اونٹ کی غزل سرائی پر خرچ کی۔