کبوتر بڑے کام کا جانور ہے۔ يہ آباديوں ميں جنگلوں ميں، مولوی اسمعيل ميرٹھی کی کتاب ميں، غرض يہ کہ ہر جگہ پايا جاتا ہے ۔کبوتر کی دو بڑی قسميں ہيں۔ نيلے کبوتر۔ سفيد کبوتر، نيلے کبوتر کی بڑی پہچان يہ ہے کہ وہ نيلے رنگ کا ہوتا ہے، سفيد کبوتر بالعموم سفيد ہی ہوتا ہے۔
The Blog contains the amazing, funny, inspirational and strange articles. Articles are published in English and Urdu languages. Follow the blog at http://amazingfunnycollection.blogspot.com
Showing posts with label طنز و مزاح. Show all posts
Showing posts with label طنز و مزاح. Show all posts
Friday, September 30, 2011
Sunday, September 18, 2011
پياسا کوا
ايک پياسے کوے کو ايک جگہ پانی کا مٹکا پڑا نظر آيا۔ بہت خوش ہوا ليکن يہ ديکھ کر مايوسی ہوئی کہ پانی بہت نيچے فقط مٹکے کی تہہ ميں تھوڑا سا ہے۔ سوال يہ تھا کہ پانی کو کيسے اوپر لائے اور اپنی چونچ تر کرے۔
Tuesday, September 13, 2011
بھارت
يہ بھارت ہے، گاندھی جی يہیں پيدا ہوئے تھے، لوگ ان کی بڑی عزت کرتے تھے، ان کو مہاتما کہتے تھے، چنانچہ مار کر ان کو يہیں دفن کر ديا اور سمادھی بنا دی، دوسرے ملکوں کے بڑے لوگ آتے ہيں تو اس پر پھول چڑھاتے ہيں، اگر گاندھی جی نہ مرتے يعنی نہ مارے جاتے تو پورے ہندوستان ميں عقيدت مندوں کيلئے پھول چڑھانے کی کوئی جگہ نہ تھی، يہی مسئلہ ہمارے يعنی پاکستان والوں کے لئے بھی تھا، ہميں قائدِ اعظم کا ممنون ہونا چاہئيے کہ خود ہی مرگئے اور سفارتی نمائندوں کے پھول چڑھانے کی ايک جگہ پيدا کردی ورنہ شايد ہميں بھی ان کو مارنا ہی پڑتا۔
Sunday, September 11, 2011
ہمارا ملک
ہمارا ملک
ايران ميں کون رہتا ہے؟
ايران ميں کون رہتا ہے؟
ايران ميں ايرانی قوم رہتی ہے؟
انگلستان ميں کون رہتا ہے؟
انگلستان ميں انگريز قوم رہتی ہے؟
فرانس ميں کون رہتا ہے؟
فرانس ميں فرانسيسی قوم رہتی ہے؟
يہ کون سا ملک ہے؟
Sunday, September 4, 2011
شیر
شیر آئے، شیر آئے، دوڑنا
آج کل ہر طرف شیر گھوم رہے ہیں۔
دھاڑ رہے ہیں۔
!یہ شیرِ بنگال ہے
!!یہ شیرِسرحد ہے
!!یہ شیرِپنجاب ہے
لوگ بھڑیں بنے اپنے اپنے باڑوں میں دبکے ہوئے ہیں
بابا حفیظ جالندھری کا شعر پڑھ رہے ہیں
” شیروں کو آزادی ہے
آزادی کے پابند رہیں
جس کو چاہیں، چیریں پھاڑیں
کھائیں پئیں آنند رہیں”
شیر یا تو جنگل میں ہوتے ہیں
!یا چڑیا گھر میں
،یہ مُلک یا تو جنگل ہے
Thursday, September 1, 2011
آدمی
دودھ دینے والے جانوروں میں پالنے لئیے سب سے اچھا یہ ہے۔ یہ نوکری کرتا ہے، دوکان کرتا ہے، تنخواہ لاتا ہے، بچے کھلاتا ہے، انھیں پیٹھ پر بٹھاتا ہے۔ عجیب شکلیں بنا کر ہنساتا ہے، بہلاتا ہے۔ اپنی مادہ کی خدمت میں جتنی دوڑ دھوپ یہ کرتا ہے کوئی اور جانور نہیں کرتا۔ اسی لئے تو اس کے سینگ غائب ہو گئے ہیں، کھر گھس گئے ہیں اور دُم جھڑ گئی ہے۔
Tuesday, August 30, 2011
کتا
کتا پالتوجانور ہے۔ ہمارے شہر کی کارپوریشن اسے پالتی ہے اور مختلف علاقوں میں چھوڑ دیتی ہے۔ کارپوریشن اور بھی کئی جانور پالتی ہے مثلاً مچھر، مثلاً چوہے۔ لیکن بھونکنے والا جانور یہی ہے۔ کتابوں میں آیا ہے کہ جو کتے بھونکتے ہیں وہ کاٹتے نہیں۔ کاٹنے والے کو بھونکنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بھونکتا وہ ہے جسے کاٹا جائے جس کو گزند پہنچے۔
Saturday, August 20, 2011
Thursday, August 18, 2011
Tuesday, August 16, 2011
بکری
گرچہ چھوٹی ہے ذات بکری کی، لیکن دودھ یہ بھی دیتی ہے۔ عام طور پرصرف دودھ دیتی ہے لیکن مجبور کریں تو کچھ منگنیاں بھی ڈال دیتی ہے۔
جن بکریوں کو شہرتِ عام اور بقائے دوام میں جگہ ملی ہے، ان میں ایک گاندھی جی کی بکری تھی اور ایک اخفش نامی بزرگ کی، روایت ہے کہ وہ بکری نہیں بکرا تھا، معقول صورت۔
Saturday, August 13, 2011
Thursday, August 11, 2011
بيا ن پا لتو جا نورں کا
بھلا ایسا بھی کوئی گھر ہے جس ميں ایک نہ ایک پالتو جانور نہ ہو. گائے نہیں تو بھینس، بھیڑ نہیں تو بکری. کتا نہیں تو بّلی، گھوڑا نہیں تو گدھا. جانور پالنا بڑی اچھی بات ہے. یہ صرف انسان کا خاصہ ہے. آپ نے کبھی نہ دیکھا ہوگا کہ کسی طوطے نے خرگوش پالا ہو، کسی مرغی نے کوئی بّلی پالی ہو، یا کسی گدھے نے کوئی گھوڑا پالا ہو. گدھا بظاہر کیسا بھی نظر آئے ایسا گدھا بھی نہیں ہوتا
Tuesday, February 2, 2010
Iqbal Teray dais ka kia haal sunaooon
Subscribe to:
Posts (Atom)










