Thursday, May 26, 2011

تازہ مچھلی کھانے کا سواد (Taste of fresh fish)

جاپان کا رقبہ پاکستان کے رقبے کا صرف ۴۷ فیصد بنتا ہے۔ یہاں کی آبادی ساڑھے بارہ کروڑ ہے۔ انسانوں کی کثافت کا اس بات سے اندازہ لگا لیجیئے کہ یہاں فی مربع کیلومیٹر اوسطا ۳۳۷ لوگ بستے ہیں، جبکہ پاکستان میں فی مربع کیلومیٹر صرف ۲۲۱ لوگ بستے ہیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ اس ملک کا تین چوتھائی رقبہ پہاڑی جنگلات سے گھرا ہوا ہے جو کسی قسم کی زراعت کے قابل ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان کی اکثر آبادی ساحلی علاقوں پر آباد ہے اور مچھلی عوام الناس کی بنیادی غذا شمار کی جاتی ہے۔

جاپانیوں کی مچھلی سے رغبت اور محبت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیئے کہ ملک میں چالیس سے زیادہ میگیزین (بیشتر جاپانی زبان میں) صرف مچھلی اور مچھلی سے متعلقہ اسرار و علوم کی تحقیق پر شائع ہوتے ہیں۔ جاپان میں کوئی سکول یا یونیورسٹی ایسی نہیں ہے جس میں مچھلی سے متعلق علوم نہ پڑھائے جاتے ہوں بلکہ یہاں تو مچھلی کے علم پر ایک خاص یونیورسٹی بھی موجود ہے اور دیگر ایسے ادارے جو مچھلی کے علوم میں ریسرچ کرتے ہیں وہ ان سب کے علاوہ ہیں۔ اس لئیے آپ کو یہ بات عجیب نہیں لگے گی کہ دنیا بھر میں پکڑی جانے والے مچھلی کا پندرہ فیصد صرف جاپان پکڑتا ہے جبکہ دنیا میں سب سے مچھلی شکار کرنے والے ملک چین کے بعد جاپان کا دوسرا نمبر ہے۔

اس ساری تمہید کے بعد میں آپ کو جاپانیوں کی تازہ مچھلی کھانے کے شوق اور محبت کا یہ قصہ سناتا ہوں جو میں نے سنگاپور آرمی کی ایک ویب سائٹ پر پڑھا تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ جاپان کے ساحلوں پر یا ساحلوں سے نزدیک مچھلی کا ملنا مشکل ہوتا گیا تو مچھیروں نے ساحلوں سے دور سمندر کے اندر جا کر مچھلی کا شکار کرنا شروع کردیا۔ جس کی وجہ سے سمندر کے اندر جا کر مچھلی شکار کرنے والی کشتیوں کے حجم بھی بڑے ہوتے گئے۔ اسکا جہاں فائدہ ہوا وہیں شکاری کشتیوں اور جہازوں کے ساحل پر واپس لوٹنے کا عرصہ لمبا ہوتا گیا۔ اور نتیجہ کے طور جب مچھلی ساحل پر لائی جاتی تھی تو وہ تازہ نہیں ہوا کرتی تھی۔

اِس مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ شکاری جہازوں پر بڑے بڑے فریزر اور سرد خانے بنا دیئے گئے جس میں شکار کرنے کے فورا بعد ہی مچھلی سٹور کر لی جاتی تھی۔ اس حل کا منفی پہلو یہ نکلا کہ مچھلی کی خرابی کے اندیشوں سے بے فکر شکاری جہازوں کا سمندر میں رہنے کا عرصہ اور دراز ہو گیا، شکاری بے فکری سے سمندر کے اندر دور تک جانے لگے اور اطمئنان سے واپس آنے لگے ۔

لیکن مچھلی کو تازہ واپس لانے کا خواب تو شرمندہِ تعبیر پھر بھی نہ ہو سکا۔ فریزر کی جمی ہوئی مچھلی کو لوگ مچھلی تو شمار کرتے مگر تازہ مچھلی ہرگز نہیں۔ بلکہ اس سے تو نئی مشکل آن کھڑی ہوئی اور وہ یہ کہ خریدار مچھلی کے وہ دام نہ دیتے جو کہ حق بنتا تھا۔ مچھلی کی مناسب قیمت نہ ملنے اور خریداروں کی عدم رغبتی کی وجہ سے مچھیرے گھاٹے میں جانے لگے۔

اس مسئلے کا کیا حل نکالا جائے، اور جاپانیوں کے پاس تو ہمیشہ اپنے مسائل کا کوئی نہ کوئی حل موجود ہوتا ہے۔

مچھیروں نے اپنے جہازوں پر پانی سے بھرے ہوئے بڑے بڑے حوض اور ٹینک رکھنا شروع کر دیئے۔ ادھر سمندر سے شکار کرتے اور اُدھر حوضوں میں ڈال لیتے، اس طرح مچھلی ساحل تک زندہ لائی جانے لگی، خریدار نہ صرف تازہ بلکہ زندہ مچھلی خریدنے لگے۔

بظاہر تو آئیڈیا لاجواب اور دانشمندانہ تھا مگر یہ دیکھیئے کہ اس کے بعد کیا ہوا؟

خریداروں نے محسوس کیا کہ جو مچھلی وہ خرید رہے ہیں وہ زندہ تو ضرور ہے مگر نہایت ہی سست، کاہل اور مردنی سی۔ کیوں کہ جہاز پر رکھے حوضوں میں ڈال کر لائی گئی مچھلی کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ حوض میں بہتات سے ڈالی ہوئی مچھلیاں وہ حرکت نہیں کر سکتی تھیں جو کھلے سمندر میں طبیعی طور پر کرتی تھیں، مزید اُن کو حوض میں ڈالی گئی خوراک یا تو ناکافی ہوا کرتی تھی یا اُس خوراک سے قطعی مختلف جو مچھلیاں سمندر میں آزادی سے حاصل کر کے کھاتی تھیں۔

جاپانیوں کی تازہ مچھلی خوری کی عادت کیلئے اس قسم کی مچھلی گویا رمضان کے روزے رجب میں رکھوانے والی بات ثابت ہو رہی تھی۔ کس طرح مچھیرے اپنے ہموطن خوش خوراکوں کو راضی کر پاتے، اس ذہین قوم کے پاس ہر مشکل کا حل نکالنے کی صلاحیت ہے اور اس مسئلے کا حل بھی انہوں نے نکال ہی لیا۔

جی ہاں، اُنہوں نے مچھلی کے حوضوں میں ایک چھوٹی سی شارک مچھلی رکھنا شروع کردی۔

تاکہ اس شارک مچھلی کے ہاتھوں پکڑے جانے کے خوف سے کوئی مچھلی ایک جگہ پر ٹکنے یا رکنے نہ پائے اور مسلسل حرکت میں ہی رہے۔

کیا اس حرکت سے کوئی مچھلی سستی یا کاہلی کا شکار ہو سکتی تھی؟ شاید نہیں۔

اور کُچھ ایسی ہی مثال حضرت انسان کی ہے جب وہ کسی قسم کے چیلنجز کا سامنا کیئے بغیر سست، کاہل اور مردنی سی زندگی گزار رہا ہوتا ہے ۔

کیا صرف چیلنجز ہی ہماری زندگیوں کو متحرک اور سرگرم رکھ سکتے ہیں؟

یاد رکھیئے کامیابیاں کبھی ایسے تن آسانوں کو نہیں ملا کرتیں جو کسی قسم کے چیلنجز کا سامنا کرنے سے کتراتے اور گھبراتے ہوں۔

تو پھر کیوں ناں ہم اپنے وہ ساری مہارتیں اور سارے مواقع و وسائل جو اللہ تبارک و تعالٰی نے ہمیں عطا کیئے ہیں استعمال کرکے کچھ مختلف کام کریں۔ کم از کم اُن لوگوں سے مختلف تو ضرور جو تن ٓآسان، سست اور کاہل لوگ کرتے ہیں۔

کیوں ناں کوئی ہمارے پیچھے بھی ایک شارک مچھلی لگادے جو ہمیں زندگی میں آگے ہی آگے بڑھاتی رہے کامیابیوں اور کامرانیوں کے سفر پر۔۔۔

آج کل پاکستان کے حالات بھی ایسے نہیں کہ جیسے اس سوئی ہوئی قوم کے پیچھے کسی نے شارک لگا دی ہو؟

سلیم

Thursday, February 17, 2011

اکسیر جنونِ نسواں

مندرجہ ذیل قصہ ایک نہایت ہی معتبر شخص نے سنایا، کہتا ہے کہ یہ قصہ اسکے والد کے زمانے میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والے ایک نوجوان کا ہے، میں آپکو اسی نوجوان کی زبانی سناتا ہوں۔


قبائلی رسم و رواج کے مطابق میں دور سے ہی ہاتھ اُٹھا کر اور بلند آواز سے سلام کرتے ہوئے اس پر وقار شخص کی طرف بڑھ رہا تھا، جی ہاں، اپنے قبیلے کے شیخ کی طرف، جو دوپہر ڈھلتے ہی اپنے گھر کی دیوار کے ساتھ بنی منڈھیر پر اونی چٹائی بچھا ئے، چائے اور عربی قہوہ کی کیتلیاں اور تھرماس پاس رکھ کر آئے گئے مہمانوں کا استقبال کرتا تھا۔ یہ شیخ صاحب کا روز کا معمول تھا۔ اُسکی یہ محفل عصر سے پہلے سجتی تھی اور مہمانوں کے آنے جانے کا سلسلہ عشاء کے بعد تک چلتا تھا۔

میں شیخ صاحب سے مصافحہ کرکے ان کے پاس ہی بیٹھ گیا۔ حتی المقدور اپنی آواز کو دھیما رکھتے ہوئے عرض کیا: اے شیخ میں آپ سے مشورہ کرنے کیلئے حاضر ہوا ہوں۔ پچھلے ایک سال سے شادی کے بعد سے اب تک میرا نہایت ہی برا حال ہے۔
شیخ صاحب نے مسکراتے ہوئے مجھے دیکھا اور گویا ہوئے: کیوں برخوردار، ایسی کیا بات ہے؟ الحمد للہ مجھے تو تم اچھے بھلے نظر آ رہے ہو۔

میں نے اپنے سر کو دائیں بائیں انکار میں ہلاتے ہوئے کہا: نہیں شیخ صاحب، میں ٹھیک نہیں ہوں، میری بیوی، میری بیوی ایک پاگل ہے۔

Tuesday, February 23, 2010

Barber Shop

--> Have you ever experienced that your eyes are closed but still you can see whats going on around you?
--> Have you ever experienced that nothing is around you but still you can feel people and things around you?
--> Have you ever thought how a Blind person can actually see and feel things so accurately?
(Certainly Allah has granted countless blessings to us for which we must say thanks to Him.)

Hmmm..... If you have never experienced all this then be ready to experience it now. To give you a practical experience a virtual barber is here and you are going to have a hear cut.

Monday, February 8, 2010

Job Hopper (Interesting)

Some, rather most organizations reject his CV today because he has changed jobs frequently (10 in 14 years). My friend, the ‘job hopper’ (referred here as Mr. JH), does not mind it…. well he does not need to mind it at all. Having worked full-time with 10 employer companies in just 14 years gives Mr. JH the relaxing edge that most of the ‘company loyal’ employees are struggling for today. Today, Mr. JH too is laid off like some other 14-15 year experienced guys – the difference being the latter have just worked in 2-3 organizations in the same number of years. Here are the excerpts of an interview with Mr. JH :

Q : Why have you changed 10 jobs in 14 years?
A : To get financially sound and stable before getting laid off the second time.

Thursday, February 4, 2010

Lesson for All

Translated Summary (English)

Teacher Entered the room and draw a line at the black board and asked the students, "Is there any one in the room who can make this line smaller without touching it?"

"It's impossible", responded the most brilliant student of the class. "To make the line smaller it needs to be rubbed but you are asking us not to touch it."

Wednesday, February 3, 2010

Documentary ROHTAS Fort, Dina (Pakistan)

A visit to ROHTAS Fort in Dina near Jehlam Pakistan, constructed by MUGHAL king Sher Shah Suri (Farid Khan). The documentary Explains the Architecture, History and different sites of this fort. This Documentary was made as a part of class Project.

Tuesday, February 2, 2010

Iqbal Teray dais ka kia haal sunaooon

How nicely Ameer-us-salam explained current scenario and Iqbal's Dream.