Friday, July 5, 2013

ہمدرد قوم

پہلے تو میں اپنے ان تمام دوست احباب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے میری غیر حاضری کا سبب دریافت کیا اور اس تمام عرصے میں میرے لیے دعا گو رہے- دراصل پچھلے کچھ عرصے میں، میں اپنی تعلیمی اور دفتری معمولات میں اتنا مصروف رہا کہ بلاگ پر کچھ توجہ نہ دے سکا لیکن آج کچھ ایسا منظر دیکھا کہ اپنے احساسات کی ترجمانی کرنے کے لیۓ مجھے الفاظ کا سہارہ لینا پڑا- اور یہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ اکثر و بیشتر یہی حالات روزانہ یہاں کی سڑکوں پر بارہا نظر آتے ہونگے- قصہ مختصر یہ کہ:
ہماری نظروں کے سامنے سڑک پر ایک گاڑی کسی راہگیر سے ٹکرا جائے تو یک دم ہمدرد لوگوں کا ایک غول جائے وقوعہ پر اکھٹا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور ڈرائیور ان سب ہمدردوں کے سامنے سے گاڑی اس شان بےنیازی سے دوڑاتا ہوا لے جاتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور اگر کچھ ہوا بھی ہے تو صرف اتنا کہ اسے آج وقت نکال کر گاڑی کا کچھ کام کرانا پڑے-

Saturday, September 8, 2012

مقبول حج


ادھر حج کا فریضہ ادا ہوا ادھر معلمین حجاج کو باری باری ایئرپورٹ لانے کے عمل  (بلکہ حجاج کو ایئرپورٹ پر  ڈھونے کے عمل) میں لگ جاتے ہیں۔ اور حجاج بیچارے ادھر، اور  ان کے لواحقین ادھر،  ان سے ملنے کو بے قرار،  انتظار کی اذیت سے دوچار ہوتے ہیں۔
کچھ ایسی ہی صورتحال  ایک عرب  ملک سے تعلق رکھنے والے حاجی سعید کے ساتھ پیش آرہی تھی جو ایئرپورٹ پر  بیٹھے اپنے جہاز کا انتظار کر رہےتھے۔  ان کے ساتھ والی کرسی کو خالی پاکر ایک  اور حاجی صاحب آن  بیٹھے۔ ایک دوسرے کو سلام کرنے بعد، ایک دوسرے کے نام ،   ایک دوسرے کی شہریت اور صحت و تندرستی بلکہ ایک دوسرے کا  حال احوال بھی پوچھ بیٹھے۔ یہ نو وارد کچھ زیادہ ہی گرم جوش دکھائی دیتا تھا جس کا دل ان چند باتوں سے نہیں بھرا تھا اور وہ مزید کچھ کہنے سننے کو بے تاب دکھائی دے رہا تھا۔ تاکہ گفتگو کا سلسلہ مزید چل نکلے۔
اس نے خود ہی اپنے بارے میں بتانا شروع کیا کہ:
برادر سعید، میں پیشے کے لحاظ سے ایک ٹھیکیدار ہوں۔ اس سال مجھے ایک بہت بڑا ٹھیکہ مل گیا، یہ ٹھیکہ تو گویا میری زندگی کے  حاصل جیسا تھا۔ اور میں نے نیت کر لی کہ اللہ کی اس  نعمت کے شکرانے کے طور پر میں اس سال دسویں بار فریضہ حج ادا کرونگا۔  بس اپنی منت کو پورا کرنے کیلئے میں نے  اپنا حج داخلہ کرایا۔ ادھر آ کر  بھی خوب صدقات  دیئے اور  خیراتیں  کیں تاکہ اللہ میرے حج کو قبول کرلے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں دسویں بار حاجی بن گیا ہوں۔
سعید صاحب نے سر کو ہلا کر گفتگو میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا  اور مسنون طریقے سے
حج کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا
حجا مبرورا ،  و سعیا مشکورا،  و ذنبا مغفورا ان شاء اللہ
(اللہ کرے آپ کا حج مقبول ہو، آپ کی سعی مشکور ہو اور آپ کے گناہ معاف کر دیئے جائیں)
اس شخص نے مسکرا کر سعید صاحب  کی نیک تمناؤں کا شکریہ ادا کیا اور کہا:
اللہ تبارک و تعالیٰ سب کے حج قبول کرے، تو سعید صاحب، کیا آپ کے حج کا بھی کوئی خاص قصہ ہے ؟
سعید نے کچھ ہچکچاہٹ کے ساتھ کہا
ہاں جی، میرے حج کے پیچھے بھی ایک طویل قصہ ہے مگر میں  یہ قصہ سنا کر آپ کے سر میں درد نہیں کرنا چاہتا۔
یہ سن کر وہ شخص ہنس پڑا اور کہا؛

Friday, August 3, 2012

اسلامی سپہ سالار( حضرت خالد بن ولید) کا تاریخی فیصلہ


رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے نے ہر طرف اپنے سائے پھیلائے ہوئے تھے۔ ایسے میں ایک شخص قلعے کی دیوار سے رسا لٹکائے نیچے اتر رہا تھا۔ وہ جس قدر اپنی منزل کے قریب آرہا تھا، اسی قدر طرح طرح کے اندیشے اس کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر رہے تھے۔
“کہیں ایسا نہ ہو کہ قلعے والے مجھے دیکھ لیں اور تیر مار کر راستے ہی میں میرا قصہ تمام کر دیں۔۔۔۔ کہیں نیچے اترتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میرے خون سے رنگین نہ ہو جائیں۔”
یہ تھے وہ خدشات جو اس کے دل و دماغ میں شدت سے گونج رہے تھے۔ پھرجوں ہی اس نے زمین پر قدم رکھا مجاہدین نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس کایہ خیال بالکل غلط ثابت ہوا کہ مسلمان مجاہد رات کے اندھیرے میں قلعے سے بے خبر ہوں گے۔
اترنے والے نے اپنے خوف پر قابو پاتے ہوئے کہا کہ اسے لشکر کے سپہ سالار کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ وہ سپہ سالار کون تھے؟ وہ اللہ کی تلوار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔

Friday, July 6, 2012

سلالہ واقعہ اور نیٹو سپلائی | کولیکشن

سلالہ واقعہ اور نیٹو سپلائی | کولیکشن

دوستو! آج خلاف معمول کوئی واقعہ یا قصہ نہیں بیان کر رہا بلکہ اپنے جذبات کو کچھ اشعار میں تحریر کر رہا ہوں- کیا کریں کہ معامله ہی کچھ ایسا ہے کہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے، چپ رہ بھی نہیں سکتے- اور الفاظ ہیں کہ زبان کا ساتھ نہیں دیتے- ...

Sunday, June 10, 2012

اک ماں کی اپنی بیٹی کیلئیے 10 نصیحتیں | کولیکشن

عرب کی ایک مشہور عالم ،ادیبہ کی دس وصیتیں، جو حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف رحمتہ اللہ علیہ لدھیا نوی صاحب کی کتاب تحفہ دلہن میں لکھی ہیں۔
١- ”میری پیاری بیٹی ،میری آنکھو ں کی ٹھنڈک ،شوہر کے گھر جا کر قناعت والی زندگی گزارنے کا اہتمام کرنا۔ جو دال روٹی ملے اس پر راضی رہنا ، جو روکھی سوکھی شوہر کی خوشی کے ساتھ مل جا ئے وہ اس مرغ پلا ﺅ سے بہتر ہے جو تمہارے اصرار کرنے پر اس نے نا راضگی سے دیا ہو ۔
٢- میری پیاری بیٹی ، اس با ت کا خیال رکھنا کہ اپنے شوہر کی با ت کو ہمیشہ توجہ سے سننا اور اسکو اہمیت دینا اور ہر حال میں ان کی بات پر عمل کرنے کی کو شش کرنا اسطرح تم ان کے دل میں جگہ بنا لو گی کیونکہ اصل آدمی نہیں آدمی کا کام پیارا ہو تا ہے ۔

Wednesday, May 30, 2012

آقا اور غلام


خواجہ حسن بصری رحمة اللہ تعالٰی علیہ نے بصرہ میں ایک غلام خریدا، وہ غلام بھی ولی اللہ، صاحبِ نسبت اور تہجد گذار تھا-
حضرت حسن بصری نے اس سے پوچھا کہ اے غلام! تیرا نام کیا ہے؟
اس نے کہا کہ حضور! غلاموں کا کوئی نام نہیں ہوتا، مالک جس نام سے چاہے پکارے،
آپ نے فرمایا اے غلام! تجھ کو کیسا لباس پسند ہے؟
اس نے کہا کہ حضور! غلاموں کا کوئی لباس نہیں ہوتا جو مالک پہنا دے وہی اس کا لباس ہوتا ہے،
پھر انہوں نے پوچھا کہ اے غلام! تو کیا کھانا پسند کرتا ہے؟

Sunday, May 13, 2012

قیمت


پرانے زمانے میں بھی بادشاہوں کو یہ خوش فہمی ہوتی تھی کہ وہ عقل کل ہیں- ایسے ہی ایک بادشاہ محض اس وجہ سے کامیابی سے حکومت کر رہا تھا کہ اسے ایک وزیر با تدبیر میسر تھا- جو اپنی معاملہ فہمی اور دوراندیشی سے بادشاہ کی حماقتوں کو چھپا لیتا تھا، مگر کب تک؟؟… ایک دن خود وزیر با تدبیر بھی بادشاہ سلامت کے نرغے میں آ ہی گیا- بادشاہ کے دماغ میں نہ جانے کیا بات آئی کہ انہوں نے وزیر باتدبیر کو بلا کر اس کے سامنے یہ تین سوال رکھے:
١- زمین کے وسطی مقام کی نشاندھی کی جائے-
٢- ہمیں بتایا جائے کہ ہم زمین کا چکر کتنی دیر میں لگا سکتے ہیں؟
٣- ایک عظیم قومی سرمایہ ہونے کے ناطے ہماری قیمت کا تخمینہ لگایا جائے-

Wednesday, April 18, 2012

پرچے اور تماشے

آج کل میں اپنے آفس بوائے کو چوتھی دفعہ میٹرک کروا رہا ہوں اور یقین کامل ہے کہ یہ سلسلہ مزید پانچ چھ سال تک جاری رہے گا، ہر دفعہ وہ پوری تیاری سے پیپر دیتا ہے اور بفضل خدا، امتیازی نمبروں سے فیل ہوتا ہے- اس دفعہ بھی پیپرز میں وہ جو کچھ لکھ آیا ہے وہ یقیناتاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا- اسلامیات کے پرچے میں سوال آیا کہ “مسلمان کی تعریف کریں؟” موصوف نے جواب لکھا کہ “مسلمان بہت اچھا ہوتا ہے، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کام ہے، وہ ہوتا ہی تعریف کے قابل ہے، اس کی ہر کوئی تعریف کرتا ہے، جو اس کی تعریف نہیں کرتا وہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے، میں بھی اٹھتے بیٹھتے ہر وقت اس کی تعریف کرتا رہتا ہوں، مسلمان کی تعریف کرنے سے بڑا ثواب ملتا ہے، ہم سب کو ہر وقت مسلمان کی تعریف کرتے رہنا چاہیے”-
اسی طرح مطالعہ پاکستان المعروف “معاشرتی علوم” کے پرچے میں سوال آیا کہ پاکستان کی سرحدیں کس کس ملک کے ساتھ لگتی ہیں، موصوف نے پرے اعتماد کے ساتھ لکھا کہ “پاکستان کے شمال میں امریکہ، مشرق میں افریقہ، مغرب میں دبئی اور جنوب میں انگلستان لگتا ہے”-
سائنس کے پرچے میں سوال تھا کہ “الیکٹران اور پروٹان میں کیا فرق ہے؟” عالی مرتبت نے پورے یقین کے ساتھ جواب لکھا کہ “کچھ زیادہ فرق نہیں، سائنسدانوں کو دونوں کی ضرورت پڑتی رہتی ہے”-